Skip to main content

Featured

Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection

 Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection. Pokémon is turning 30, and adidas is marking the milestone with one of its most character-packed footwear collaborations yet. The new Pokémon x adidas 30th Anniversary collection brings the world of Pokémon into several of adidas’ most recognizable sneaker silhouettes, combining classic footwear designs with details inspired by some of the franchise’s most recognizable characters. The collection puts the spotlight on Pikachu, Mewtwo, Rayquaza, Charmander, Charmeleon, Charizard, Gastly, Haunter and Gengar, giving different Pokémon their own visual treatment rather than simply placing a logo on an existing sneaker. Pikachu Takes Over the Superstar Pikachu receives multiple designs, including versions of the iconic adidas Superstar as well as the Pro Model. The Superstar styles experiment with bright yellow, white and character-inspired detailing, while the Pro Model takes the concept further with a more ...

شادی کے 14 سال بعد افئیر کا خطرناک انجام: 36 سالہ درخشندہ (تین بچوں کی ماں) نے ٹک ٹاک پر 27 سالہ عبدالمعیز سے دوستی کی ، دونوں نے ملکر .

 شادی کے 14 سال بعد افئیر کا خطرناک انجام: 36 سالہ درخشندہ (تین بچوں کی ماں) نے ٹک ٹاک پر 27 سالہ عبدالمعیز : ایک لمحے کی کمزوری


                  https://uptodate143.blogspot.com


درخشندہ کی شادی کو چودہ سال ہو چکے تھے۔ وہ تین بچوں کی ماں تھی، شوہر ایک سرکاری ملازم، جو دن رات کام میں مصروف رہتا۔ زندگی میں نہ کوئی نیاپن بچا تھا، نہ کوئی جذباتی لمس۔ دن بھر کی مصروفیات، بچوں کی پڑھائی، گھر کی ذمہ داریاں — ان سب کے بیچ درخشندہ خود کو کہیں کھو چکیسے دوستی کی ، دونوں نے ملکر 

ایک دن بوریت میں اُس نے ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا۔ ویڈیوز دیکھنے، تبصرے کرنے اور کبھی کبھار اپنی آواز میں شعر ریکارڈ کرنے لگی۔ تبھی ایک دن عبدالمعیز نامی نوجوان نے اُس کی ویڈیو پر تبصرہ کیا:


> “آپ کی باتوں میں ایک عجیب کشش ہے، دل کو چھو لیتی ہیں۔”

پہلے تو درخشندہ نے نظر انداز کیا، مگر بار بار کے تبصروں، تعریفوں اور شائستہ گفتگو نے اُسے متاثر کر لیا۔ عمر میں نو سال چھوٹا عبدالمعیز، باتوں میں نرم، الفاظ میں میٹھا اور انداز میں پرکشش تھا۔ جلد ہی ان کے درمیان دوستی ہوگئی — روزانہ چیٹ، لمبی باتیں، اور دل کی وہ باتیں جو اس نے برسوں سے کسی سے نہیں کی تھیں۔

وقت گزرتا گیا، دوستی جذبات میں بدلی، جذبات محبت میں۔ درخشندہ کو لگا جیسے وہ پھر سے جینے لگی ہو۔ عبدالمعیز کی باتیں اُس کے لیے آکسیجن بن گئیں۔ مگر کہانی کا رخ جلد بدل گیا۔

ایک دن عبدالمعیز نے اُس سے ویڈیو کال پر آنے کو کہا۔ درخشندہ نے جھجک کے بعد ہاں کہہ دی۔ وہ لمحہ اُس کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکہ بن گیا۔ چند دن بعد عبدالمعیز نے اُس کی تصویریں اور ویڈیوز مانگنا شروع کر دیں — نہ دینے پر دھمکیاں دیں کہ اگر وہ انکار کرے گی تو ان کی بات چیت عام کر دے گا

درخشندہ کے ہاتھوں سے موبائل چھوٹ گیا۔ اُس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اُس نے سمجھا تھا محبت ملی ہے، مگر دراصل وہ ایک جال تھا۔ عبدالمعیز نے بلیک میلنگ شروع کر دی، رقم مانگی، تحفے مانگے، اور خاموشی کا وعدہ کرنے کے بدلے ہر روز نئی شرط رکھ دی

ایک دن درخشندہ نے ہمت کر کے شوہر کو سب کچھ سچ بتا دیا۔ آنسوؤں، شرمندگی اور خوف میں لرزتی ہوئی اُس نے موبائل پکڑایا۔ شوہر نے پولیس سے رابطہ کیا، اور عبدالمعیز کو سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کر لیا۔

درخشندہ نے اُس دن ایک تلخ سبق سیکھا — کہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی مسکراہٹیں ہمیشہ سچی نہیں ہوتیں، اور ایک لمحے کی کمزوری کبھی کبھار پوری زندگی برباد کر دیتی ہے۔



Comments