Skip to main content

Featured

‘MOONLIGHT’ will be getting a theatrical re-release on October 2 to celebrate the film's 10th anniversary. The film will be remastered in 4K.

 ​Ten years after redefining modern cinema and capturing the hearts of audiences and critics worldwide, Barry Jenkins’ Academy Award-winning masterpiece Moonlight is returning to the big screen. A24 has officially announced a special theatrical re-release scheduled for October 2, allowing fans and a new generation of moviegoers to experience the cinematic landmark in a stunning new 4K remaster. ​A Modern Masterpiece Returns to the Big Screen ​Upon its original release in 2016, Moonlight transcended traditional cinematic boundaries. Based on Tarell Alvin McCraney’s unproduced stage play In Moonlight Black Boys Look Blue, the film charts the life of Chiron across three defining chapters of his life—childhood, adolescence, and early adulthood—as he navigates identity, sexuality, and the harsh realities of growing up in a rough Miami neighborhood. ​What made Moonlight a cultural phenomenon was its profound intimacy, poetic visual language, and James Laxton’s luminous, dreamlike cinemat...

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ جینیفر لارنس نے حال ہی میں دی نیویارکر کو بتایا

 آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ جینیفر لارنس نے حال ہی میں دی نیویارکر کو بتایا

👇👇👇👇

https://uptodate143.blogspot.com/2025/10/blog-post_29.html


شرمندہ ہوں: جینیفر لارنس کے صاف دل اعتر

 تعارف

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ جینیفر لارنس نے حال ہی میں دی نیویارکر کو بتایا کہ وہ اب فلموں کی تشہیر کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے پہلے جیسا سکون محسوس نہیں کرتیں۔ تقریباً پندرہ سال تک میڈیا کی توجہ کا مرکز رہنے کے بعد لارنس نے اعتراف کیا کہ مسلسل خبروں میں رہنا اور پروموشنل انٹرویوز دینا ان کے فنی سفر پر دباؤ بن گیا تھا

۔

جینیفر لارنس کا پرانے انٹرویوز پر ردعمل

جب ان سے پرانے انٹرویوز کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ ہنستے ہوئے بولیں:

“اوہ نہیں، وہ بہت خراب تھے! کتنے شرمناک!”


ان کے اس بے ساختہ انداز نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ مذاق کر رہی ہیں، مگر انہوں نے وضاحت کی:

“وہ واقعی میں تھی، مگر وہ ایک دفاعی انداز بھی تھا۔ میں چاہتی تھی لوگ دیکھیں کہ میں کوئی ‘سٹار’ نہیں ہوں۔ اب جب وہ انٹرویوز دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں، ‘کتنی پریشان کن لڑکی تھی میں!'”


ے بتایا کہ ان کی چند فلموں کی ناکامی فلموں کے معیار یا سیاسی خیالات کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ لوگ ان کی عوامی شبیہ سے اکتا چکے تھے۔


انہوں نے کہا:

“چھ سال میں سولہ فلمیں کرنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ہالی ووڈ سے دو سال کا وقفہ لوں۔”


اس دوران ان کی شہرت میں کمی آئی۔

“میں ہمیشہ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن ایک وقت آیا جب محسوس ہوا کہ میری موجودگی ہی کچھ لوگوں کو ناگوار لگتی ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ صرف کام یا کیریئر ذہنی سکون نہیں دے سکتا



واپسی: فلم ڈائی مائی لو

وقفے کے بعد لارنس نے فلم Die My Love کے ذریعے دوبارہ بڑی اسکرین پر واپسی کی۔ فلم کی ہدایتکارہ لن رمزی ہیں اور اس میں وہ رابرٹ پیٹنسن کے ساتھ نظر آئیں۔ کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے جو شادی اور ماں بننے کے دباؤ میں اپنی زندگی کا توازن کھو دیتی ہے۔


یہ فلم اس سال کے کانز فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، اور معروف ہدایتکار مارٹن اسکورسیزی نے لارنس کو ذاتی طور پر یہ کردار قبول کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا:

“یہ تمہارا چیلنج ہے۔ سکون بھول جاؤ، خطرہ مول لو۔”



Comments