Skip to main content

Featured

Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection

 Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection. Pokémon is turning 30, and adidas is marking the milestone with one of its most character-packed footwear collaborations yet. The new Pokémon x adidas 30th Anniversary collection brings the world of Pokémon into several of adidas’ most recognizable sneaker silhouettes, combining classic footwear designs with details inspired by some of the franchise’s most recognizable characters. The collection puts the spotlight on Pikachu, Mewtwo, Rayquaza, Charmander, Charmeleon, Charizard, Gastly, Haunter and Gengar, giving different Pokémon their own visual treatment rather than simply placing a logo on an existing sneaker. Pikachu Takes Over the Superstar Pikachu receives multiple designs, including versions of the iconic adidas Superstar as well as the Pro Model. The Superstar styles experiment with bright yellow, white and character-inspired detailing, while the Pro Model takes the concept further with a more ...

شہباز شریف کی چھٹی ؟ نیا وزیر اعظم کون؟ سیاسی میدان میں ہلچل.

 📰 پسِ منظر — کیا “شہباز شریف کی چھٹی” سچ ہے؟



اس وقت کوئی معتبر خبر موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ شہباز شریف نے “وزیراعظم” کے عہدے سے مستعفیٰ ہو کر چھٹی لی ہو۔ اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان یا معتبر رپورٹ سامنے نہیں آئی۔


حال ہی میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہباز شریف “ضرورت پڑنے پر” عہدہ اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو سونپ سکتے ہیں، مگر اس وقت نواز شریف نے اس عہدے کی قبولیت سے انکار کیا ہے۔ 


لہٰذا “شہباز شریف کی چھٹی” کے نام پر گردش کرنے والی افواہیں فی الحال بے بنیاد نظر آتی ہیں۔




---


📌 حقیقت — موجودہ وزیراعظم کون ہے؟


شہباز شریف کو 3 مارچ 2024 کو دوسری مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا۔ 


یوں، اس وقت وہ پاکستان کے باقاعدہ وزیراعظم ہیں — نہ کہ “منتخب کردہ” نہ ہی “نگراں” حکومتی سربراہ۔ 


اس لیے اگر کہیں کہا جائے کہ “نیا وزیراعظم” آ چکا ہے — تو وہ درست نہیں ہے (جب تک کوئی باقاعدہ تبدیلی نہ ہو)۔




---


🔎 موجودہ سیاسی صورتحال اور تنقید


حکومت نے حال ہی میں Twenty-seventh Amendment to the Constitution of Pakistan منظور کروائی، جو فوجی قیادت، عدلیہ اور وفاق-صوبوں کے اختیارات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ بعض سیاسی و قانونی حلقے اسے صوبائی خودمختاری اور عدلی استقلال کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ 


ساتھ ہی، فوجی قیادت کے ڈھانچے (جیسے Pakistan Army) سے یافتہ اختیارات اور فوجی امور میں شمولیت جیسے معاملات میڈیا اور عوامی مکالمے کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ 




---


📝 کیوں یہ افواہیں گونج رہی ہیں؟


پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی روایات، حکومت اور فوج کے اختیارات میں مباحثے، اور آئینی ترمیمات — ان سب نے ایک ماحول پیدا کیا ہے جہاں “کب کب کو کس کا عہدہ ہے؟” کی بحث تیز ہوتی ہے۔


اس پس منظر میں، بعض سیاسی حلقے یا سوشل میڈیا پر “وزیراعظم کی تبدیلی” کی قیاس آرائیاں کرنا شروع شدند؛ مگر فی الحال ان کی حقیقت کوئی تصدیق نہیں کرتی۔




---


✍️ نتیجہ: “چھٹی” کی خبر محض قیاس ہے


ابھی تک کوئی ایسا باوثوق ذریعہ نہیں ملا جس نے تصدیق کی ہو کہ شہباز شریف نے چھٹی لی ہے یا مستعفیٰ ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ دعویٰ فی الحال ایک افواہ ہے — اور بہتر یہی ہے کہ آئندہ تک اس کو “مکمل طور پر نامستند” سمجھا جائے۔


اگر چاہیں تو، میں موجودہ سیاسی کلائمٹ (حکام، اصلاحات، آئینی ترمیمات) پر ایک تازہ مضمون لکھ سکتا ہوں — جس میں “کیا واقعی تبدیلی کی گنجائش ہے؟” اس پہلو کو بھی شامل کریں گے۔ ایسا مضمون بناؤں؟

Comments