دھورندھر کی غیر معمولی کامیابی کے اسباب
فلم کی کامیابی کے پیچھے کئی مضبوط عوامل ہیں۔
منفرد اور طاقتور کہانی
آدتیہ دھر کی جرات مندانہ ہدایت کاری
رنویئر سنگھ کی شاندار اداکاری
ایک نئی اداکارہ کا غیر متوقع مگر مؤثر انتخاب
سوشل میڈیا پر رنویئر سنگھ اور سارہ ارجن کی آن اسکرین کیمسٹری کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
کئی شائقین ان کی اداکاری کی ہم آہنگی کی تعریف کر رہے ہیں۔
کچھ حلقے دونوں اداکاروں کے درمیان عمر کے فرق پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اسی بحث کے باعث فلم کی کاسٹنگ ٹیم کو وضاحتیں دینا پڑیں۔
1300 آڈیشنز اور کاسٹنگ ڈائریکٹر کا مؤقف
معروف کاسٹنگ ڈائریکٹر مکیش چھابڑا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ فلم کے مرکزی کردار کے لیے تقریباً 1300 لڑکیوں کے آڈیشن لیے گئے۔ ان کے مطابق ٹیم کو ایک ایسا چہرہ چاہیے تھا جو نیا ہو، مختلف ہو اور کہانی کے مطابق بالکل درست لگے۔ سارہ ارجن ابتدا ہی سے باقی امیدواروں سے نمایاں تھیں۔
کہانی کا تقاضا اور عمر کا فرق
مکیش چھابڑا کے مطابق فلم میں رنویئر سنگھ کا کردار حمزہ ایک کم عمر خاتون کی ذہنی اور جذباتی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسی لیے اداکارہ کی عمر 20 سے 21 سال کے درمیان ہونا ضروری تھی۔
کردار میں معصومیت کے ساتھ اندرونی مضبوطی کا ہونا لازمی تھا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دھورندھر پارٹ ٹو میں عمر کے فرق سے متعلق تمام سوالات کے جواب دیے جائیں گے۔
آدتیہ دھر کا نئے ٹیلنٹ پر اعتماد
آدتیہ دھر ہمیشہ نئے ٹیلنٹ کو موقع دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جان بوجھ کر کسی بڑی اداکارہ کو کاسٹ نہیں کیا گیا۔
مقصد ناظرین کو چونکانا اور کہانی کو زیادہ حقیقت پسند بنانا تھا۔
اسی وژن کے تحت سارہ ارجن کا انتخاب کیا گیا۔

No comments:
Post a Comment