Skip to main content

Featured

‘MOONLIGHT’ will be getting a theatrical re-release on October 2 to celebrate the film's 10th anniversary. The film will be remastered in 4K.

 ​Ten years after redefining modern cinema and capturing the hearts of audiences and critics worldwide, Barry Jenkins’ Academy Award-winning masterpiece Moonlight is returning to the big screen. A24 has officially announced a special theatrical re-release scheduled for October 2, allowing fans and a new generation of moviegoers to experience the cinematic landmark in a stunning new 4K remaster. ​A Modern Masterpiece Returns to the Big Screen ​Upon its original release in 2016, Moonlight transcended traditional cinematic boundaries. Based on Tarell Alvin McCraney’s unproduced stage play In Moonlight Black Boys Look Blue, the film charts the life of Chiron across three defining chapters of his life—childhood, adolescence, and early adulthood—as he navigates identity, sexuality, and the harsh realities of growing up in a rough Miami neighborhood. ​What made Moonlight a cultural phenomenon was its profound intimacy, poetic visual language, and James Laxton’s luminous, dreamlike cinemat...

جسم فروشی کے لیے لڑکیوں کی دبئی اسمگلنگ کرنے والا گروہ بے

 دبئی انسانی اسمگلنگ ریکیٹ کا پردہ فاش: جسم فروشی کے لیے لڑکیاں اسمگل کرنے والا گروہ ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار



ایک بڑی کارروائی میں، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے (FIA) امیگریشن یونٹ نے انسانی اسمگلنگ کے ایک ہائی پروفائل گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ گروہ لڑکیوں کو دبئی میں پرکشش ملازمتوں کا جھانسہ دے کر اسمگل کرتا تھا، جہاں انہیں زبردستی جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیا جاتا تھا۔بئی اسمگلنگ کا بھیانک خواب: ایک بہادر خاتون نے گروہ کو کیسے بے نقاب کیا؟

یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب ایف آئی اے حکام نے کراچی ایئرپورٹ پر سائرہ (فرضی نام) نامی ایک نوجوان خاتون کو روکا۔ اسکریننگ کے عمل کے دوران، سائرہ نے اس ہولناک اسکیم کی تفصیلات بتائیں جس میں اسے متحدہ عرب امارات (UAE) میں ہوٹل کی نوکری کا وعدہ کیا گیا تھا۔خاتون کی نشاندہی اور بیان کی بنیاد پر، ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم شاہزیب کو گرفتار کر لیا۔ تحقیقات سے ایک ایسے خطرناک نیٹ ورک کا انکشاف ہوا جہاں مقامی ایجنٹ بین الاقوامی اسمگلروں کے ساتھ مل کر مجبور خواتین کا استحصال کرتے تھے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسمگلر سیکیورٹی سے بچنے اور متاثرہ افراد کو پھنسانے کے لیے انتہائی منظم طریقہ کار استعمال کرتے تھے:


ملازمت کا جھانسہ: لڑکیوں سے دبئی کے ہوٹلنگ سیکٹر میں باعزت ملازمتوں کا وعدہ کیا جاتا تھا۔

مالی معاونت: ملزم شاہزیب کو ندیم نامی ایک بدنام زمانہ انسانی اسمگلر سے فنڈز موصول ہوئے تاکہ سائرہ کے وزٹ ویزا، ہوائی ٹکٹ اور ضروری "شو منی” (Show Money) کا بندوبست کیا جا سکے۔

ایئرپورٹ پر ملی بھگت: مجموعی طور پر 4 لاکھ 20 ہزار روپے کے بجٹ میں سے، شاہزیب نے مبینہ طور پر اسلم نامی ایجنٹ کو 40,000 روپے ادا کیے تاکہ ایئرپورٹ پر "کلیئرنس” میں آسانی ہو۔

واٹس ایپ ثبوت: شاہزیب اور سائرہ کے فونز کے فارنزک تجزیے سے جسم فروشی کے ریکیٹ کے دیگر ارکان کے ساتھ مجرمانہ واٹس ایپ چیٹس سامنے آئیں، جس سے اس سفر کے اصل ارادوں کی تصدیق ہوئی۔


Comments