Skip to main content

Featured

Post-Apocalyptic TV Series to Watch

 1:The Last Ship  1:Genre: Action / Sci-Fi / Drama  2:Seasons: 5 (2014–2018)   3:Premise: A global pandemic wipes out over 80% of the world's population. The crew of a fictional U.S. Navy Arleigh Burke-class guided-missile destroyer, the USS Nathan James (DDG-80), avoids the devastation while conducting Arctic research. Completely isolated from a collapsed society, the crew must find a cure, stop the virus from spreading further, and deal with hostile factions rising from the ashes of governments worldwide.   4:Why Watch: It leans heavily into high-stakes naval combat, military tactics, and geopolitical intrigue. If you enjoy fast-paced action combined with a race-against-time scientific mystery, this procedural yet serialized drama hits the ground running. 2:To The Lake (Vozdushnyy dom / Epidemiya)  1: Genre: Thriller / Sci-Fi / Drama  2:Seasons: 2 (2019–present)  3: Premise: A terrifying, highly contagious new airborne virus hits Moscow, turning...

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ اس دور میں پاکستان دہشت گردی کا سخت مقابلہ کر رہا تھا، اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں۔ کانفرنس کے دوران ایک غیر ملکی جنرل نے راحیل شریف سے کہا:”اگر حالات بہت مشکل ہو جائیں تو آپ بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں


ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان۔۔۔

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان۔۔۔

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ اس دور میں پاکستان دہشت گردی کا سخت مقابلہ کر رہا تھا، اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں۔ کانفرنس کے دوران ایک غیر ملکی جنرل نے راحیل شریف سے کہا:”اگر حالات بہت مشکل ہو جائیں تو آپ بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں۔”
یہ بات سن کر جنرل راحیل شریف چند لمحے خاموش رہے۔پھر انہوں نے انتہائی مضبوط لہجے میں جواب دیا:“میں اُس سرزمین کا سپاہی ہوں جہاں میری ماں نے مجھے قرآن پڑھایا،اور جہاں میرے بھائی نے شہادت پائی۔پاکستان مشکل ہو جائے تو میں چھوڑ کر نہیں جاتا…مشکل ہو جائے تو میں اُس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں۔”یہ جملہ سنتے ہی پورا ہال خاموش ہو گیا۔لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ شخص صرف ایک جنرل نہیں…یہ اس دھرتی سے دل کی آخری دھڑکن تک وفادار ہے۔
اسی رات ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ جنرل راحیل نے واپسی کی پرواز میں کہا:”ہمیں دنیا سے کچھ نہیں چاہیے… ہمیں بس یہ چاہیے کہ پاکستان کبھی نہ جھکے۔جب تک ایک سپاہی بھی زندہ ہے، یہ ملک سر اٹھا کر چلتا رہے گا۔”یہ تھا وہ جذبہ—پاکستان اس کے لیے صرف ایک ملک نہیں تھا،وہ اس کی پہچان، اس کی غیرت، اور اس کی آخری سانس تک کی محبت تھا۔

Comments