Skip to main content

Featured

Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection

 Adidas Celebrates Pokémon’s 30th Anniversary With a Massive Sneaker Collection. Pokémon is turning 30, and adidas is marking the milestone with one of its most character-packed footwear collaborations yet. The new Pokémon x adidas 30th Anniversary collection brings the world of Pokémon into several of adidas’ most recognizable sneaker silhouettes, combining classic footwear designs with details inspired by some of the franchise’s most recognizable characters. The collection puts the spotlight on Pikachu, Mewtwo, Rayquaza, Charmander, Charmeleon, Charizard, Gastly, Haunter and Gengar, giving different Pokémon their own visual treatment rather than simply placing a logo on an existing sneaker. Pikachu Takes Over the Superstar Pikachu receives multiple designs, including versions of the iconic adidas Superstar as well as the Pro Model. The Superstar styles experiment with bright yellow, white and character-inspired detailing, while the Pro Model takes the concept further with a more ...

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ اس دور میں پاکستان دہشت گردی کا سخت مقابلہ کر رہا تھا، اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں۔ کانفرنس کے دوران ایک غیر ملکی جنرل نے راحیل شریف سے کہا:”اگر حالات بہت مشکل ہو جائیں تو آپ بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں


ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان۔۔۔

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا اس دور میں پاکستان۔۔۔

ایک بار جنرل راحیل شریف کو ایک غیر ملکی کانفرنس میں مدعو کیا گیا۔ اس دور میں پاکستان دہشت گردی کا سخت مقابلہ کر رہا تھا، اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں۔ کانفرنس کے دوران ایک غیر ملکی جنرل نے راحیل شریف سے کہا:”اگر حالات بہت مشکل ہو جائیں تو آپ بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں۔”
یہ بات سن کر جنرل راحیل شریف چند لمحے خاموش رہے۔پھر انہوں نے انتہائی مضبوط لہجے میں جواب دیا:“میں اُس سرزمین کا سپاہی ہوں جہاں میری ماں نے مجھے قرآن پڑھایا،اور جہاں میرے بھائی نے شہادت پائی۔پاکستان مشکل ہو جائے تو میں چھوڑ کر نہیں جاتا…مشکل ہو جائے تو میں اُس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں۔”یہ جملہ سنتے ہی پورا ہال خاموش ہو گیا۔لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ شخص صرف ایک جنرل نہیں…یہ اس دھرتی سے دل کی آخری دھڑکن تک وفادار ہے۔
اسی رات ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ جنرل راحیل نے واپسی کی پرواز میں کہا:”ہمیں دنیا سے کچھ نہیں چاہیے… ہمیں بس یہ چاہیے کہ پاکستان کبھی نہ جھکے۔جب تک ایک سپاہی بھی زندہ ہے، یہ ملک سر اٹھا کر چلتا رہے گا۔”یہ تھا وہ جذبہ—پاکستان اس کے لیے صرف ایک ملک نہیں تھا،وہ اس کی پہچان، اس کی غیرت، اور اس کی آخری سانس تک کی محبت تھا۔

Comments