Skip to main content

Featured

‘MOONLIGHT’ will be getting a theatrical re-release on October 2 to celebrate the film's 10th anniversary. The film will be remastered in 4K.

 ​Ten years after redefining modern cinema and capturing the hearts of audiences and critics worldwide, Barry Jenkins’ Academy Award-winning masterpiece Moonlight is returning to the big screen. A24 has officially announced a special theatrical re-release scheduled for October 2, allowing fans and a new generation of moviegoers to experience the cinematic landmark in a stunning new 4K remaster. ​A Modern Masterpiece Returns to the Big Screen ​Upon its original release in 2016, Moonlight transcended traditional cinematic boundaries. Based on Tarell Alvin McCraney’s unproduced stage play In Moonlight Black Boys Look Blue, the film charts the life of Chiron across three defining chapters of his life—childhood, adolescence, and early adulthood—as he navigates identity, sexuality, and the harsh realities of growing up in a rough Miami neighborhood. ​What made Moonlight a cultural phenomenon was its profound intimacy, poetic visual language, and James Laxton’s luminous, dreamlike cinemat...

قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے ملک گیر تحریک کا اعلان کر دیا کیا آپ تیار ہیں 🧏🏼‍♀️

 قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نے ملک گیر تحریک کا اعلان کر دیا کیا آپ تیار ہیں 


سینیٹ نے دوتہائی اکثریت سے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی
سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے ساتھ ہی ایوان بالا میں آئینی ترامیم کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کیا، تاہم پی ٹی آئی کے رکن سیف اللہ ابڑو اس احتجاج میں شریک نہیں ہوئے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔تحریک پر ووٹنگ کے دوران سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر احمد خان نے آئینی ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا۔ بعد ازاں ایوان میں 59 شقوں پر مشتمل ترمیم کو مرحلہ وار منظوری دی گئی۔


مجموعی طور پر 64 ارکان سینیٹ نے ترامیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کوئی رکن مخالفت میں سامنے نہیں آیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے باقاعدہ منظور کرلیا گیا ہے۔ ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔منظوری کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان سے غیر حاضر ہوگئے۔ترمیم کے مطابق، صدرِ مملکت کو تاحیات اور گورنرز کو اپنی مدتِ ملازمت کے دوران کرمنل کارروائی سے استثنا حاصل ہوگا۔ کسی عدالت کو ان کے خلاف گرفتاری کا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ تاہم، صدرِ مملکت پر یہ استثنا اس وقت لاگو نہیں ہوگا جب وہ صدارتی مدت مکمل ہونے کے بعد کسی عوامی عہدے پر فائز ہوں۔

ترمیم میں مزید وضاحت کی گئی کہ وفاقی آئینی عدالت میں صوبوں سے برابر نمائندگی ہوگی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے کم از کم ایک جج شامل ہوگا، تاہم اسلام آباد کے ججز کی تعداد صوبوں کے ججز سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔ترمیم کے تحت آئینی عدالت ازخود نوٹس صرف اس صورت میں لے سکے گی جب کوئی شہری اس کے لیے تحریری درخواست دے۔ مزید یہ کہ ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی اب جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر ہوگی، اور اگر کوئی جج منتقلی سے انکار کرے تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکے گا، البتہ جج کو اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

Comments